New Mp3 mp4 Songs Free Download H4A

Adbi Maloomat 8

ایک داستان
گھر جانے کے لئے گاڑی میں بیھٹا ہی تھا کہ نظر ایک بزرگ پر پڑی جو ایک کاغذ  ہاتھ میں لیے علی حسنین کا پتہ پوچھ رہے تھے.مجھ پر
نظر پڑتے ہی ہاتھ سے روکنے کا اشارہ کیا اور پاس آئے۔
کپڑوں کی خستہ حالی اور چہرے پر جھریاں بہت کچھ بتا رہی تھی بولے :
بیٹا یہ میرے پتر (بیٹے) کا نام ہے سنا ہے وہ اسی شہر  (اسلام آباد) میں اپنے بچوں کے ہمراہ کچھ سال پہلے آیا تھا۔
پھر کاغذ میں لپٹی کوئی چیز نکالی .یہ کسی کی تصویر تھی.مگر تصویر میں نظر آنے والا شخص بہت کم عمر نظر آ رہا تھا۔
میں نے پوچھا :
بابا جی یہ ہیں آپکے بیٹے ؟مگر یہ تو بہت کم عمر نظر آ رہے ہیں۔
بابا جی بولے:
 پتر یہ تو آرمی میں ٹیسٹ دینے کے لیئے اس نے تصویر بنائی تھی. اب تو سنا ہے وہ کرنل بن چکا ہے۔
میں بنے پوچھا:
تو بابا جی آپ سے کوئی رابطہ نہیں اور کب سے ؟
لرزتے ہونٹوں سے بولے :
بیٹا تاریخ یاد نہیں مگر بہت سال پہلے اس نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی تب اسکی نوکری نہیں تھی .آرمی میں ٹیسٹ دیا پھر بیوی کو لے کر شہر آگیا تھا کہ اگر آرمی میں بھرتی نہ ہوا تو شہر میں نوکری ڈھونڈے گا تو تب  سے کچھ  پتہ نہیں۔پہلے تو ماں زندہ تھی اب وہ بھی نہیں رہی.میں بھی کوئی کام نہیں کر سکتا.بڑی مشکل سے پتہ لگا کہ وہ اس شہر میں رہتا ہے.میں بڑی مشکل سے یہاں آیا ہوں.زندگی کا کیا بھروسہ بس ایک بار اس سے ملنا چاہتا ہوں۔
میں نے پھر سے پوچھا :
مگر بابا جی آپ کب سے اپنے بیٹے کو ڈھونڈ رہے ہیں؟
بولے:
کئی دن ہو گئے پتر.بس چلتا رہتا ہوں اور پوچھتا رہتا ہوں لوگوں سے.جہاں رات پڑے سڑک کنارے ہی سو جاتا ہوں۔
بس اُس کا یہ کہنا ہی تھا کیا ایک سرد ہوا کا جھونکا میرے جسم کو ٹھٹھرا گیا۔
میں دوبارہ ان سے گویا ہوا :
بابا جی آپ کے پاس کوئی ایڈرس نہیں ایسے کیسے آپ کو ۔۔۔۔۔؟(ابھی میرے  لفظ منہ میں ہی تھے)
کہ وہ بول اُٹھے :
تو خیر ہے پتر اپنے بیٹے کے شہر میں موت آئی تو اس سے آگے کیا ہے؟ باپ ہوں نا زندگی میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ حشر میں تو پتر سنا ہے اپنی اپنی پڑی ہوگی۔
میں نے تو حشر نہیں دیکھی بابا جی مگر حشر دیکھ رہا ہوں.آنسو میرا چہرہ بھگو رہے تھے۔کہیں اس باپ کی محبت کی قیمت اس شہر کے بیٹوں کو نہ دینی پڑ جاے۔
یہ پوسٹ لکھتے ہوئے بھی میری آنکھیں کئی بار نم ہوئی بس ایک ہی فقرہ زہن میں گونج رہا ہے   باپ ہوں نہ دنیا میں ملنا چاہتا ہوں حشر میں تو پتر اپنی اپنی پڑی ہو گی ۔
خدارا قدر کریں اپنے والدین کی یہ وہ قیمتی اثاثہ ہے جو زندگی میں صرف ایک بار ملتا ہے۔
جن کے والدین زندہ ہیں وہ خدمت کریں  جن کی وفات پا گئے وہ دعا کیا کریں۔
دعا ہے کہ سب کے ماں پاپ سلامت رہیں۔

Post a Comment

0 Comments