URDU POETRY 06

غزل (مجھے اَب یاد نہیں ہے)

اِک شخص ملا تھا، مجھے اَب یاد نہیں ہے
اچھا تھا، بُرا تھا ، مجھے اَب یاد نہیں ہے

کچھ خاص تھا اُس میں جو مجھے بھول گیا ہے
دھوکہ تھا، دغا تھا، مجھے اَب یاد نہیں ہے

اِک اُس سےنہیں سب ہی سے دھوکہ ہی ملا تھا
کِس کِس سے ملا تھا، مجھے اَب یاد نہیں ہے

"بِن آپ کے تو سانس بھی ہم کو نہیں آتی“
یہ کِس نے کہا تھا، مجھے اَب یاد نہیں ہے

اِک عشق تھا جو بعدِ خُدا تجھ سے ہوا تھا
نیکی تھی، گُناہ تھا، مجھے اَب یاد نہیں ہے

میں تو اُسی کا تھا، یہ مجھے یاد ہےلیکن
کیا وہ بھی مِرا تھا؟ مجھے اَب یاد نہیں ہے

جلتا تھا سرِ شام کسی آنکھ میں ہر روز
وہ دِل تھا، دِیا تھا، مجھے اَب یاد نہیں ہے





Post a Comment

0 Comments