Adbi Maloomat 19

تم اک گورکھ دھندہ ہو
❤️❤️❤️❤️❤️
‎کبھی یہاں تمہیں ڈھونڈا کبھی وہاں پہنچا❤️
‎تمہاری دید کی خاطر کہاں کہاں پہنچا❤️
‎غریب مٹ گئے ، پامال ہو گئے لیکن❤️
‎کسی تلک نہ تیرا آج تک نشاں پہنچا❤️
‎ہو بھی نہیں اور ہر جا ہو۔۔!!
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
‎ہر ذرے میں کس شان سے تو جلوہ نما ہے❤️
‎حیراں ہے مگر عقل میں کیسا ہے تو کیا ہے ❤️
‎تجھے دیر و حرم میں میں نے ڈھونڈا تو نہیں ملتا❤️
‎مگر تشریف فرما تجھ کو اپنے دل میں دیکھا ہے❤️
‎جب بجز تیرے کوئی دوسرا موجود نہیں❤️
‎پھر سمجھ میں نہیں آتا تیرا پردہ کرنا۔۔!!
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
‎کوئی الفت میں تمہاری کھو گیا ہے❤️
‎اسی کھوئے ہوئے کو کچھ ملا ہے❤️
‎نہ بت خانے نہ کعبے میں ملا ہے❤️
‎مگر ٹوٹے ہوئے دل میں ملا ہے❤️
‎عدم بن کر کہیں تو چھپ گیا ہے❤️
‎کہیں تو ہست بن کر آ گیا ہے❤️
‎نہیں ہے تو تو پھر انکار کیسا❤️
‎نفی بھی تیرے ہونے کا پتہ ہے❤️
‎میں جس کو کہہ رہا ہوں اپنی ہستی❤️
‎اگر وہ تو نہیں تو اور کیا ہے❤️
‎نہیں آیا خیالوں میں اگر تو❤️
‎تو پھر میں کیسے سمجھا تو خدا ہے۔۔!
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
‎حیران ہوں اس بات پہ تم کون ہو ، کیا ہو❤️
‎ہاتھ آؤ تو بت ، ہاتھ نہ آؤ تو خدا ہو❤️
‎اصل میں جو مل گیا ، لا الہ کیوں کر ہوا❤️
‎جو سمجھ میں آگیا پھر وہ خدا کیوں کر ہوا❤️
‎فلسفی کو بحث کےاندر خدا ملتا نہیں❤️
‎ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں❤️
‎چھپتے نہیں ہو ، سامنے آتے نہیں ہو تم❤️
‎جلوہ دکھا کے جلوہ دکھاتے نہیں ہو تم❤️
‎دیر و حرم کے جھگڑے مٹاتے نہیں ہو تم ❤️
‎جو اصل بات ہے وہ بتاتے نہیں ہو تم ❤️
‎حیراں ہوں میرے دل میں سمائے ہو کس طرح❤️
‎حالانکہ دو جہاں میں سماتے نہیں ہو تم ❤️
‎یہ معبد و حرم ، یہ کلیسا و دہر کیوں❤️
‎ہرجائی ہو جبھی تو بتاتے نہیں ہو تم❤️
‎بس ۔۔۔!!!❤️❤️❤️
تم اک گورکھ دھندہ ہو۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
‎دل پہ حیرت نے عجب رنگ جما رکھا ہے❤️
‎ایک الجھی ہوئی تصویر بنا رکھا ہے❤️
‎کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ چکر کیا ہے❤️
‎کھیل کیا تم نے ازل سے یہ رچا رکھا ہے❤️
‎روح کو جسم کے پنجرے کا بنا کر قیدی❤️
‎اس پہ پھر موت کا پہرہ بھی بٹھا رکھا ہے❤️
‎دے کہ تدبیر کے پنچھی کو اڑانے تو نے❤️
‎دام تقدیر بھی ہر سمت بچھا رکھا ہے❤️
‎کر کے آرائشیں کونین کی برسوں تو نے❤️
‎ختم کرنے کا بھی منصوبہ بنا رکھا ہے❤️
‎لامکانی کا بہر حال ہے دعوی بھی تمہیں❤️
‎نام کا بھی پیغام سنا رکھا ہے❤️
‎یہ برائی ، وہ بھلائی ، یہ جہنم ، وہ بہشت❤️
‎اس الٹ پھیر میں فرماؤ تو کیا رکھا ہے❤️
‎جرم آدم نے کیا اور سزا بیٹوں کو❤️
‎عدل و انصاف کا معیار بھی کیا رکھا ہے❤️
‎دے کے انسان کو دنیا میں خلافت اپنی❤️
‎اک تماشا سا زمانے میں بنا رکھا ہے❤️
‎اپنی پہچان کی خاطر ہے بنایا سب کو❤️
‎سب کی نظروں سے مگر خود کو چھپا رکھا ہے۔۔!!
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو۔۔
‎❤️❤️❤️❤️❤️
‎نت نئے نقش بناتے ہو ، مٹا دیتے ہو❤️
‎جانے کس جرم تمنا کی سزا دیتے ہو❤️
‎کبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کنی❤️
‎کبھی ہیروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہو❤️
‎زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے❤️
‎وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو❤️
‎خواہش دید جو کر بیٹھے سر طور کوئی❤️
‎طور ہی ، برق تجلی سے جلا دیتے ہو❤️
‎نار نمرود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلیل❤️
‎خود ہی پھر نار کو گلزار بنا دیتے ہو❤️
‎چاہ کنعان میں پھینکو کبھی ماہ کنعاں❤️
‎نور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہو❤️
‎بیچو یوسف کو کبھی مصر کے بازاروں میں❤️
‎آخر کار شاہ مصر بنا دیتے ہو❤️
‎جذب ومستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئی❤️
‎بیٹھ کر دل میں انا الحق کی صدا دیتے ہو❤️
‎خود ہی لگواتے ہو پھر کفر کے فتوے اس پر❤️
‎خود ہی منصور کو سولی پہ چڑھا دیتے ہو❤️
‎اپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہے❤️
‎اپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو❤️
‎کوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تیری❤️
‎تم اسے جھنگ کے بیلے میں رُلا دیتے ہو❤️
‎جستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئی❤️
‎اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو❤️
‎جوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگے❤️
‎تم اسے تپتے ہوئے تھل میں جلا دیتے ہو❤️
‎سوہنی گر تم کو “مہینوال” تصور کر لے❤️
‎اس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو❤️
‎خود جو چاہو تو سر عرش بلا کر محبوب❤️
‎ایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہو۔۔!!❤️❤️❤️❤️❤️
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
‎جو کہتا ہوں مانا تمہیں لگتا ہے برا سا❤️
‎پھر بھی ہے مجھے تم سے بہر حال گلہ سا❤️
‎چپ چاپ رہے دیکھتے تم عرش بریں پر❤️
‎تپتے ہوئے کربل میں محمد (ﷺ)کا نواسہ❤️
‎کس طرح چلاتا تھا لہو اپنا وفا کو❤️
‎خود تین دنوں سے وہ اگر چہ تھا پیاسا❤️
‎دشمن تو بحر طور تھے دشمن مگر افسوس❤️
‎تم نے بھی فراہم نہ کیا پانی ذرا سا❤️
‎ہر ظلم کی توفیق ہے ظالم کی وراثت❤️
‎مظلوم کے حصے میں تسلی نہ دلاسا❤️
‎کل تاج سجا دیکھا تھا جس شخص کے سر پر❤️
‎ہے آج اسی شخص کے ہاتھوں میں ہی کاسہ❤️
‎یہ کیا ہے اگر پوچھوں تو کہتے ہو جواباً❤️
‎اس راز سے ہو سکتا نہیں کوئی شناسا۔۔!!
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
‎راہِ تحقیق میں ہر گام پہ الجھن دیکھوں❤️
‎وہی حالات و خیالات میں ان بن دیکھوں❤️
‎بن کے رہ جاتا ہوں تصویر پریشانی کی❤️
‎غور سے جب بھی کبھی دنیا کا درپن دیکھوں❤️
‎ایک ہی خاک سے فطرت کے تضادات اتنے❤️
‎کتنے حصوں میں بٹا ایک ہی آنگن دیکھوں❤️
‎کہیں زحمت کی سلگتی ہوئی پت جھڑ کا ساماں❤️
‎کہیں رحمت کے برستے ہوئے ساون دیکھوں❤️
‎کہیں پُھنکارتے دریا ، کہیں خاموش پہاڑ❤️
‎کہیں جنگل ، کہیں صحرا ، کہیں گلشن دیکھوں❤️
‎خوں رُلاتا ہے یہ تقسیم کا انداز مجھے❤️
‎کوئی دھنوان یہاں پر کوئی نردھن دیکھوں❤️
‎دن کے ہاتھوں میں فقط ایک سلگتا سورج❤️
‎رات کی مانگ ستاروں سے مزین دیکھوں❤️
‎کہیں مرجھائے ہوئے پھول ہیں سچائی کے❤️
‎اور کہیں جھوٹ کے کانٹوں پہ بھی جوبن دیکھوں❤️
‎رات کیا شئے ہے سویرا کیا ہے❤️
‎یہ اجالا یہ اندھیرا کیا ہے❤️
‎میں بھی نائب ہوں تمہارا آخر❤️
‎تم یہ کہتے ہو کہ تیرا کیا ہے۔۔!!
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو۔۔
‎❤️❤️❤️❤️❤️
‎دیکھنے والا تجھے کیا دیکھتا ❤️
‎تو نے ہر دم جس سے پردہ کیا❤️
‎مسجد ، مندر ، یہ میخانے❤️
‎کوئی یہ مانے ، کوئی وہ مانے❤️
‎سب تیرے ہیں جاناں آشانے❤️
‎کوئی یہ مانے ، کوئی وہ مانے❤️
‎اک ہونے کا تیرے قائل ہے❤️
‎انکار پہ کوئی مائل ہے❤️
‎اصلیت یہ پھر تو جانے❤️
‎اک خلق میں شامل کرتا ہے❤️
‎اک سب سے اکیلا رہتا ہے❤️
‎ہیں دونوں تیرے مستانے❤️
‎کوئی یہ مانے ، کوئی وہ مانے❤️
‎کوئی یہ مانے ، کوئی وہ مانے❤️
‎سب ہیں جب عاشق تمہارے نام کے❤️
‎کیوں یہ جکڑے ہیں رحیم و رام کے❤️
‎دہر میں تو ، حرم میں تو❤️
‎عرش پہ تو ، زمیں پہ تو❤️
‎جس کی پہنچ جہاں تلک❤️
‎اس کے لیے وہیں پہ تو۔۔!!
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو۔۔
‎ہر ایک رنگ میں یکتا ہو❤️
‎تم اک گورکھ دھندہ ہو۔۔
❤️❤️❤️❤️❤️
‎مرکز جستجو❤️
‎عالم رنگ و بو❤️
‎دم بدم جلوہ گر ، تو ہی تو چار سو❤️
‎ھُوکے ماحول میں کچھ نہیں اِلاّھو❤️
‎تم بہت دلربا ، تم بہت خوبرو❤️
‎عرش کی عظمتیں❤️
‎فرش کی آبرو❤️
‎تم ہو کونین کا حاصل آرزو❤️
‎آنکھ نے کر لیا آنسؤں سے وضو❤️
‎اب تو کر دو عطا دید کا اک سبُو❤️
‎آؤ پردے سے تم آنکھ کے روبرو❤️
‎چند لمحے ملن ،  دوگھڑی گفتگو❤️
‎ناز جپتا پھرے جا بجا ، کُو بکُو❤️
‎وحدہ وحدہ لا شریک الٰہُ❤️
‎اللہ ھو ، اللہ ھو ۔ اللہ ھو❤️
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️


Post a Comment

0 Comments